اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق ٹویٹر میں سرگرم مگر انجانے سعودی لکھاری جو "مجتہد" کے نام سے قلم فرسائی کرتا ہے، نے لکھا ہے: مجھے اطلاع ملی ہے کہ جدہ کے اصلاح پسندوں کی رہائی کا مسئلہ ان کی گرفتاری کے پہلے سال سے ہی زیر بحث تھا لیکن انھوں نے اپنی رہائی کی پیشکش کو مسترد کیا ہے چنانچہ وزارت داخلہ نے ایک عدالت تشکیل دی اور انہیں ہر صورت میں سزا دلوانے کی کوشش کی۔ جدہ کے اصلاح پسندوں کا کیس 16 افراد پر مشتمل ہے جن میں سے نو افراد کو پولیس نے دو فروری 2007 کے روز جدہ میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ان پر عراق میں تشددپسندانہ کاروائیوں کے لئے مالی امداد کی فراہمی اور سیاسی جماعت کی تشکیل کی کوشش جیسے الزامات عائد کئے گئے۔ واضح رہے کہ آل سعود ایک طرف سے عراق میں تشدد کو ہوادینے کے بہانے اصلاح پسندوں کو لائق سزا قرار دیتی ہے تو سعودی حکمران خود باضابطہ طور پر عراق میں قتل ہونے والے لاکھوں نہتے مسلمانوں کے قتل کے جرم میں شریک ہیں۔مجتہد نے لکھا ہے کہ 22 نومبر 2007 کو مذکورہ اصلاح پسندوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کی 35 نشستیں پوری ہونے پر "عدالت" نے ان کو مجموعی طور پر 228 برس قید کی سزا سنائی۔ اس کیس میں دوسرے سعودی ملزموں کے بیرونی سفر پر پابندی لگائی گئی اور غیرملکی افراد ـ جو اس کیس میں ملزم ٹہرائے گئے تھے ـ ملک بدر کئے گئے۔ حال ہی میں حکومت نے مذکورہ قیدیوں میں چھ افراد کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے معافی مانگیں تو ان کی سزا معاف ہوسکتی ہے اور وہ رہا ہوسکتے ہیں لیکن انھوں نے جیل میں رہنے کو بادشاہ سے معافی مانگنے پر ترجیح دی ہے۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آل سعود سے ان افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے قید و شرط کا تعین نہایت گھٹیا اور ناقابل قبول فعل ہے۔ بادشاہ عبداللہ کی حالت نازک ہے سینئر علماء بورڈ کی دوبارہ تشکیل کا شاہی فرمانسعودی خاندان کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی حالت نازک بتائی گئی ہے اور انھوں نے اعلی علماء بورڈ کی دوبارہ تشکیل کا فرمان جاری کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مطابق سعودی بادشاہ نے شدید بیماری کی حالت میں فتوے دینے اور دینی سفارشات مرتب کرنے والے اعلی علماء بورڈ کی دوبارہ تشکیل کا فرمان جاری کیا ہے۔ادھر آل سعود کے دارالحکومت ریاض سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی صحت دوبارہ گر گئی ہے اور وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں سے عاجز ہوچکے ہیں۔ٹویٹر نامی سماجی نیٹ ورک پر حکمران خاندان کے پس پردہ حالات کے بارے میں لکھنے والے مشہور مگر گمنام سعودی لکھاری "مجتہد" نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے باوجود کہ بادشاہ کے محل میں کابینہ کے اجلاس کے لئے پورا پورا انتظام ہوچکا تھا لیکن بادشاہ اس اجلاس میں حاضر نہيں ہوسکے۔مجتہد نے لکھا کہ بادشاہ کی صحت کی خرابی کی وجہ سے غیرمنتخب اور بےاختیار مجلس شوری کے نئے مقرر کردہ اراکین کی تقریب حلف برداری بھی جمعہ تک ملتوی کردی گئی ہے؛ حتی کہ ہوسکتا ہے کہ یہ تقریب پیر کے روز عرب معاشی ترقی کانفرنس کے انعقاد کے بعد تک ملتوی کی جائے۔ مجتہد نے لکھا ہے کہ بادشاہ حالیہ آپریشن کے بعد اچانک دل کے دھڑکن میں کمی سے دوچار ہوئے جس کے بعد ڈاکٹروں دھڑکن کو منظم کرنے کے لئے وقتی طور پر ایک مشین کی مدد لی۔ یہ مشین "بیس میکر" کہلاتی ہے جو 16 امریکی ڈاکٹروں کی موجودگی میں نصب کی گئی لیکن ڈاکٹر اب بھی شاہ عبداللہ کی صحت کے بارے میں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔مجتہد کی رپورٹ کے مطابق سلمان کو ولیعہد مقرر کرنے کے بعد بادشاہ نے منطقۃالشرقیہ سمیت کئی علاقوں کے امراء کے تعین کا بارہا ارادہ کیا لیکن ان کا یہ ارادہ ان کی بیماری کی وجہ سے ملتوی ہوتا رہا جس پر آخر کار انھوں نے عمل کیا اور سلمان کے کئی بیٹوں کو بھی امارت ملی اور ریاض کی معاشی کانفرنس کے بعد یہ تبدیلیاں عملی جامہ پہنیں گی اور حتی کہ وزراء کونسل کے رکن "عبدالعزیز بن فہد" کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔ مجتہد نے لکھا ہے کہ بادشاہ عبداللہ اور ولیعہد سلمان کی عقلی اور فکری سطح بہت ہی محدود ہے چنانچہ بادشاہ کے دفتر کے سربراہ خالد التویجری ملک میں تمام تر تنزلیوں، تقرریوں اور معزولیوں میں سب سے زیادہ کردار ادا کررہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ التویجری ہی کی وجہ سے مجلس شوری میں پہلی بار 30 خواتین کا تقرر کیا گیا ہے۔
جاری ہے